Sahih Bukhari - The Book Of Gifts And The Superiority Of Giving Gifts And The Exhortation For Giving Gifts 52 - Hadith #2612

Chapter The Book Of Gifts And The Superiority Of Giving Gifts And The Exhortation For Giving Gifts
Book Sahih Bukhari صحيح البخاري
Hadith No 2612
Baab کتاب ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ   عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ ( فروخت ہو رہا ) ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کہ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اسے خرید لیتے اور جمعہ کے دن اور وفود کی ملاقات کے موقع پر اسے زیب تن فرما لیا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسے وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ کچھ دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے ( ریشمی ) حلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلہ ان میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا کہ آپ یہ مجھے پہننے کے لیے عنایت فرما رہے ہیں۔ حالانکہ آپ خود عطارد کے حلوں کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا، جو مکے میں رہتا تھا۔
Narrated `Abdullah bin `Umar:
`Umar bin Al-Khattab saw a silken dress (cloak) being sold at the gate of the Mosque and said, O Allah's Apostle! Would that you buy it and wear it on Fridays and when the delegates come to you! Allah's Apostle said, This is worn by the one who will have no share in the Hereafter. Later on some silk dresses were brought and Allah's Apostle sent one of them to `Umar. `Umar said, How do you give me this to wear while you said what you said about the dress of 'Utarid? Allah's Apostle said, I have not given it to you to wear. So, `Umar gave it to a pagan brother of his in Mecca.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَلِلْوَفْدِ قَالَ : إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ، ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً ، وَقَالَ : أَكَسَوْتَنِيهَا ، وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا .
Reference : Sahih Bukhari 2612
In-book reference : Book 52, Hadith 47
USC-MSA web (English) reference
(deprecated numbering scheme)
: Vol. 3, Position 47 of Hadith 2612.
Sahih Bukhari
Hadith# 2612
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَلِلْوَفْدِ قَالَ : إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ، ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً ، وَقَالَ : أَكَسَوْتَنِيهَا ، وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا .
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ   عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ ( فروخت ہو رہا ) ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کہ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اسے خرید لیتے اور جمعہ کے دن اور وفود کی ملاقات کے موقع پر اسے زیب تن فرما لیا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسے وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ کچھ دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے ( ریشمی ) حلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلہ ان میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا کہ آپ یہ مجھے پہننے کے لیے عنایت فرما رہے ہیں۔ حالانکہ آپ خود عطارد کے حلوں کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا، جو مکے میں رہتا تھا۔
Narrated `Abdullah bin `Umar: `Umar bin Al-Khattab saw a silken dress (cloak) being sold at the gate of the Mosque and said, O Allah's Apostle! Would that you buy it and wear it on Fridays and when the delegates come to you! Allah's Apostle said, This is worn by the one who will have no share in the Hereafter. Later on some silk dresses were brought and Allah's Apostle sent one of them to `Umar. `Umar said, How do you give me this to wear while you said what you said about the dress of 'Utarid? Allah's Apostle said, I have not given it to you to wear. So, `Umar gave it to a pagan brother of his in Mecca.
Sahih Bukhari
Hadith# 2612
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَلِلْوَفْدِ قَالَ : إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ، ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً ، وَقَالَ : أَكَسَوْتَنِيهَا ، وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا .
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ   عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ ( فروخت ہو رہا ) ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کہ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اسے خرید لیتے اور جمعہ کے دن اور وفود کی ملاقات کے موقع پر اسے زیب تن فرما لیا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسے وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ کچھ دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے ( ریشمی ) حلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلہ ان میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا کہ آپ یہ مجھے پہننے کے لیے عنایت فرما رہے ہیں۔ حالانکہ آپ خود عطارد کے حلوں کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا، جو مکے میں رہتا تھا۔
Narrated `Abdullah bin `Umar: `Umar bin Al-Khattab saw a silken dress (cloak) being sold at the gate of the Mosque and said, O Allah's Apostle! Would that you buy it and wear it on Fridays and when the delegates come to you! Allah's Apostle said, This is worn by the one who will have no share in the Hereafter. Later on some silk dresses were brought and Allah's Apostle sent one of them to `Umar. `Umar said, How do you give me this to wear while you said what you said about the dress of 'Utarid? Allah's Apostle said, I have not given it to you to wear. So, `Umar gave it to a pagan brother of his in Mecca.

More Hadiths From: Sahih Bukhari - Chapter 52